برطانیہ میںگاڑیوں کی ہیڈلائٹ میں تیز روشنی ایک بڑھتا ہوںمسئلہ ہے. ڈرائیور بہتر ہیڈلائٹ کے لیے زیادہ چمک والے بل بلب استعمال کرر ہے ہیں.
ہیڈلائٹ کی چمک کے مسئلے پر عوامی تشویش میں اضافے اور RAC اور کالج آف آپٹومیٹرسٹس جیسے اداروں کی سٹڈی کے بعد حکومت نے اس مسئلے پر آزادانہ مطالعہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آٹھ میں سے دس ڈرائیورز اس مسئلے سے بڑھتی ہوئی پریشانی محسوس کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے فوری اقدامات کے مطالبے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایک شہری کی طرف سے دائر کردہ پٹیشن کے بعد کیا گیا، جسے بارونس ہیٹر سمیت بااثر شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، جو ملک بھر میں ڈرائیورز کے لیے بڑی مایوسی اور حفاظتی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
ایک بیان میں حکومت نے مسئلے پر مزید شواہد اکٹھے کرنے کی فوری ضرورت تسلیم کرتے ہوئے کہا، “ہیڈلائٹ کی چمک کے حوالے سے مزید شواہد کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم جلد ہی آزادانہ تحقیق کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے اور سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ آزادانہ مطالعہ ہیڈلائٹ کی چمک کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لے گا، اس کے ڈرائیورز پر اثرات کا تجزیہ کرے گا، اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے ممکنہ حل تلاش کرے گا۔ چونکہ اس مسئلے پر عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اس لیے حکومت کا اس پر بروقت اور فعال اقدام ملک بھر میں لاکھوں ڈرائیورز کی تشویش کو دور کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔