نائجیریا کی حکومت نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں داعش (آئی ایس آئی ایل) کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ داعش کے جنگجوؤں نے “بنیادی طور پر بے گناہ مسیحیوں” کو نشانہ بنایا اور انہیں بے رحمی سے قتل کیا، جو ان کے بقول کئی برسوں بلکہ صدیوں میں نہیں دیکھا گیا۔
تاہم نائجیریا کی حکومت نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سرگرم مسلح گروہ صرف مسیحیوں ہی نہیں بلکہ مسلمان اور مسیحی دونوں برادریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات نائجیریا کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتے اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے نائجیریا کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔
افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک نائجیریا میں متعدد مسلح گروہ سرگرم ہیں، جن میں کم از کم دو گروہ داعش سے وابستہ ہیں۔ ان میں شمال مشرق میں سرگرم بوکو حرام کا دھڑا، اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس (ISWAP)، اور شمال مغربی علاقوں میں موجود نسبتاً کم معروف داعش سے منسلک گروہ اسلامک اسٹیٹ ساحل پروونس (ISSP) شامل ہے، جسے مقامی طور پر لکوراوا کہا جاتا ہے۔
اگرچہ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ کس گروہ پر کیا گیا، تاہم سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہدف داعش تھا تو امکان ہے کہ یہ لکوراوا کے جنگجو تھے۔ یہ گروہ گزشتہ ایک سال کے دوران سوکوٹو اور کیبی جیسی سرحدی ریاستوں میں زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے، جہاں اس نے دور دراز علاقوں کی آبادیوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔